بنگلورو،10؍فروری(ایس او نیوز)بنگلور یونیورسٹی میں اگر مخیر حضرات کی طرف سے جمع کی گئی رقم زیادہ ہے تو سب سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طالب علم کو سنہری تمغہ سے سرفراز کیا جاسکتاہے، فی ا لوقت یونیورسٹی میں جو رقم ڈپازٹ کرائی گئی ہے اس سے آنے والے سود سے سونے کا تمغہ دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات آج وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات بسوراج رایا ریڈی نے لیجسلیٹیو کونسل کو بتائی۔ کانگریس رکن کے سی کونڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 30-40 سال قبل مخیر حضرات نے بطور ڈپازٹ یہ رقم جمع کرائی تھی۔ اس دور کی رقم اتنی کم ہے کہ اس سے ہونے والی آمدنی سے تمغہ بھی خریدا نہیں جاسکتا۔اسی لئے ہر بار طلبا کو صرف سرٹی فکیٹ دے کر رخصت کیاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کوچار سو گرام وزنی چاندی کا سکہ سونے کا پانی چڑھا کر دیا گیا۔ اس مرحلے میں جنتادل (ایس) رکن شرونا نے چاندی کے سکے پر سونے کا سکہ درج کئے جانے کی روایت پر سخت اعتراض کیا۔ اس پر بسوراج رایا ریڈی نے شرونا سے مخاطب ہوکر کہاکہ وہ خود شہر میں بہت بڑی زیورات کی دکان چلاتے ہیں اسی لئے یونیورسٹی کے طالب علم کیلئے سونے کا سکہ وہ خود کیوں نہیں دیتے؟۔ اس موقع پر ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر بسوراج رایا ریڈی نے بتایاکہ ریاست کی ہر یونیورسٹی کو دس کروڑ روپیوں سے زیادہ کے کاموں کی اگر منظوری لینی ہے تو اسے ریاستی کابینہ میں پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیاں اگر ترقی کیلئے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم بھی اگر صرف کرنا چاہتی ہیں تو انہیں محکمہ سے اجازت لینی ہوگی۔ اور اگر کوئی بھی کام ایک کروڑ سے کم کے تخمینہ والا ہے تو یونیورسٹیاں انہیں راست طور پر منظور کرسکتی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہاکہ ریاست بھر میں 17 یونیورسٹیاں ہیں ، ان یونیورسٹیوں کے حساب وکتاب کی جانچ کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ کمیٹی کی طرف سے جو آڈٹ کی جائے گی اس میں اگر کوئی خامی ہے تو اسے دور کرنے کی طرف بھی توجہ دی جائے گی۔